سورۃ المائدہ رکوع نمبر 15,16.

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ۔

 

یَوۡمَ یَجۡمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَا ذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ  لَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ  الۡغُیُوۡبِ ﴿۱۰۹﴾

 

 جس (قیامت کے) روز  اللہ رب العزت سب رسولوں کو جمع کر کے پوچھیں گے کہ تمہیں (دعوت دین السلام کا) کیا جواب دیا گیا  ،  تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں تو کچھ علم نہیں  ،   آپ ہی تمام غیب کے علم (پوشیدہ حقیقتوں کو)جانتے ہیں  ۔

 

 

اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ اذۡکُرۡ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ ۘ اِذۡ اَیَّدۡتُّکَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ۟ تُکَلِّمُ  النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا ۚ وَ اِذۡ عَلَّمۡتُکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۚ وَ اِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ بِاِذۡنِیۡ فَتَنۡفُخُ فِیۡہَا فَتَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِیۡ وَ تُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ بِاِذۡنِیۡ ۚ وَ اِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِیۡ ۚ وَ اِذۡ کَفَفۡتُ بَنِیۡۤ  اِسۡرَآءِیۡلَ عَنۡکَ اِذۡ جِئۡتَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ  اِنۡ ہٰذَاۤ  اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۱۰﴾

 

 پھر تصوّر کرو اس موقع کا جب اللہ رب العزت فرمائیں گے کہ “ اے مریم کے بیٹے عیسٰی ! یاد کریں میری اس نعمت کو جو میں نے آپ کو اور آپ کی ماں کو عطا کی تھی  ،  میں نے روح پاک سے آپ کی مدد کی  ،  آپ گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتے تھے اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی  ،  میں نے آپ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی  ،  آپ میرے حکم سے مٹی کا پتلا پرندے کی شکل کا بناتے اور اس میں پھونکتے تھے  اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا ،  تو مادر زاد اندھے اور  کوڑھی کو میرے حکم سے صحت یاب کرتے تھے ،  آپ مردوں کو میرے حکم سے زندہ کرتے تھے ،   پھر جب آپ  بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کر پہنچے تو جو لوگ ان میں سے کافر (منکرِ  دین حق) تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادوگری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی بنی اسرائیل کو آپ پر (قتل کے حملے) سے روکا . 

 

وَ  اِذۡ  اَوۡحَیۡتُ اِلَی الۡحَوَارِیّٖنَ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِیۡ  وَ بِرَسُوۡلِیۡ ۚ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ اشۡہَدۡ  بِاَنَّنَا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

 

 اور جب میں (اللہ) نے 

حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم (دین السلام کو قبول و اختیار کرنے والے) ہیں۔

 

اِذۡ   قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابۡنَ  مَرۡیَمَ ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ  کُنۡتُمۡ  مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾

 

 ﴿  حواریوں کے سلسلہ میں﴾ یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسٰی ابنِ مریم ! کیا آپ کے  رب العزت (حاکم اعلی) ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتے ہیں ؟ تو عیسٰی نے کہا اللہ رب العزت سےتقوی اختیار کرو (نافرمانی سے بچتے ہوئے دین اسلام میں زندگی گزارو) اگر تم مومن (دین باطل چھوڑ کر دین حق قبول کر چکے) ہو  ۔  

 

قَالُوۡا نُرِیۡدُ اَنۡ  نَّاۡکُلَ  مِنۡہَا وَ تَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُنَا وَ نَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا وَ نَکُوۡنَ عَلَیۡہَا مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۱۱۳﴾ ٙ

 

 انہوں نے کہا ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہو جائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے (دعوت دین ) کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں ۔

 

قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَ ارۡزُقۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾

 

 اس پر عیسٰی ابن مریم نے دعا کی “ اے ہمارے اللہ، ہمارے رب العزت (حاکم اعلی) ! ہم پر آسمان سے ایک خوان (طعام ) نازل کریں جو ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے عید (خوشی) کا موقع قرار پائے جو آپ کی طرف سے آیت ( نشانی) ہو  ،  ہمیں رزق عطا فرمائیں، کیوں کہ آپ ہی بہترین رازق ہیں   ۔ 

 

قَالَ اللّٰہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمۡ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡکُمۡ فَاِنِّیۡۤ  اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا  لَّاۤ   اُعَذِّبُہٗۤ  اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾٪                    

 اللہ رب العزت نے فرمایا “ میں اس (خوان \ طعام) کو تم پر نازل کرنے والا ہوں، مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر (انکار دین الاسلام) کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو عالمین (دنیا و جہان) میں کسی کو نہ دی ہوگی ”  ۔

 

وَ  اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ  ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ  اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ  اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕ؃ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ  مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ  الۡغُیُوۡبِ ﴿۱۱۶﴾

 غرض جب ﴿یہ احسانات یاد دلاکر﴾ اللہ رب العزت فرمائیں گے کہ “ اے عیسٰی بن مریم ! کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو بھی الہ (حاکم \رب \معبود) بنا لو؟ ”  تو وہ جواب میں عرض کریں گے “ سبحان اللہ(آپ تو پاک ہیں شرک سے) ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا  ،  اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا  ،  آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے  ، درحقیقت آپ تو تمام پوشیدہ حقائق کا علم رکھتے ہیں  ۔ 

 

مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ۚ وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ  شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ  کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ  اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ  شَیۡءٍ  شَہِیۡدٌ ﴿۱۱۷﴾

 میں نے ان (لوگوں) سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا  ،  یہ کہ اللہ کی عبادت (حاکمیت\ قیام دین و خلافت) کرو جو میرے رب العزت (حاکم اعلی) بھی ہیں اور تمہارے  ربّ بھی  ۔  میں اسی وقت تک ان کا گواہ (نگراں) تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا  ۔  جب آپ نے مجھے وفات دے دی( واپس بلا لیا ) تو آپ ان پر نگراں تھے جب کہ آپ ہی تو تمام اشیاء پر شاہد (نگراں) ہیں ۔

 

اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾

اے اللہ رب العزت !  اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے عباد ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ حکیم و دانا حاکم مطلق ہیں.  ۔ 

 

 

قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ  تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ  خٰلِدِیۡنَ  فِیۡہَاۤ  اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۹﴾

 تب اللہ رب العزت فرمائیں گے “ کہ آج وہ دن ہے جس میں صدیقین (دین حق کی گواہی دینے والوں) کو ان کی  صداقت (سچّی گواہی) نفع دے گی ،  ان کے لیے ایسے (جنتیں) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں  ،  یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے  ،  اللہ رب العزت ان سے راضی ہوگئے اور وہ اللہ سے  ،  یہی بہت بڑی کامیابی ہے  ۔  

 

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا فِیۡہِنَّ ؕ وَ ہُوَ  عَلٰی  کُلِّ  شَیۡءٍ  قَدِیۡرٌ ﴿۱۲۰۔                 

 زمین اور آسمانوں کا ملک اور ان میں تمام موجودات اللہ رب العزت ہی کی ملکیت ہے اور وہ تمام اشیاء پر قبضہ و قدرت رکھتے ہیں۔

Leave a comment