سورۃ المائدہ رکوع نمبر 13
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَیَبۡلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیۡءٍ مِّنَ الصَّیۡدِ تَنَالُہٗۤ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ رِمَاحُکُمۡ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّخَافُہٗ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۹۴﴾

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعہ سے آزمائیں گے جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا ، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون (حالت احرام میں ) اللہ سے غائبانہ خوف رکھتا (ڈرتا) ہے ، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد (قانون) سے تجاوز کیا اس کے لیے درد ناک عذاب (سزا) تیار ہے ۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُواب الصَّیۡدَ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ وَ مَنۡ قَتَلَہٗ مِنۡکُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحۡکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ ہَدۡیًۢا بٰلِغَ الۡکَعۡبَۃِ اَوۡ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیۡنَ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِکَ صِیَامًا لِّیَذُوۡقَ وَبَالَ اَمۡرِہٖ ؕ عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ ؕ وَ مَنۡ عَادَ فَیَنۡتَقِمُ اللّٰہُ مِنۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۹۵﴾

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اِحرام کی حالت میں شکار مت مارو ، اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اسی کے ہم پلّہ ایک جانور اسے مویشیوں میں سے بدلہ میں دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے ، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا ، یا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا ، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے ، تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے ۔ پہلے جو کچھ ہو چکا اسے اللہ نے معاف کر دیا ، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لیں گے ، یاد رکھو! اللہ رب العزت (پوری کائنات کے) حاکم مطلق ہیں اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہیں ۔


اُحِلَّ لَکُمۡ صَیۡدُ الۡبَحۡرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِلسَّیَّارَۃِ ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ صَیۡدُ الۡبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۹۶﴾
(احرام کی حالت میں ) تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ، جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زادِراہ بھی بنا سکتے ہو ۔ البتّہ خشکی کا شکار جب تک تم اِحرام کی حالت میں ہو ، تم پر حرام کیا گیا ہے ۔ لہٰذا تقویٰ اختیار کرو (نافرمانی سے بچتے ہوئے دین السلام میں زندگی گزارنے کی کوشش کرو) جن کے حضور پیشی کے لئے تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا ۔

جَعَلَ اللّٰہُ الۡکَعۡبَۃَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ الۡہَدۡیَ وَ الۡقَلَآئِدَ ؕ ذٰلِکَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۹۷﴾

اللہ رب العزت نےکعبہ ( بیت الحرام ) کو ، ماہِ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قَلادوں (پٹہ پڑے ہوئے جانوروں) کو بھی انسانوں کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے. تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ رب العزت آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہیں اور انہیں ہر شئی کا علم ہے .

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ؕ۹۸﴾
خبردار ،تمہیں علم ہونا چاہئے کہ ! اللہ رب العزت (حکم عدولی کی صورت میں) سزا دینے میں سخت ہیں جب کہ درحقیقت (احکامات کی تعمیل کی صورت میں) بخشنے والے اور رحم بھی کرنے والے ہیں ۔

مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۹۹﴾
رسول اللہ پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمّہ داری ہے ، جب کہ اللہ رب العزت سب حالات و واقعات کا علم رکھتے کہ تم کیا ظاہر کرتے ہو اور کیا چھپاتے ہو ۔


قُلۡ لَّا یَسۡتَوِی الۡخَبِیۡثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوۡ اَعۡجَبَکَ کَثۡرَۃُ الۡخَبِیۡثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۰)
اے نبی مکرم ! آپ ان سے کہہ دیں کہ طیب (پاک) اور خبیث (ناپاک) بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی(پسند) ہو . لہٰذا اے لوگو جو عقل و دانش رکھتے ہو ! اللہ رب العزت سے تقوی اختیار کرو ( نافرمانی سے بچتے ہوئے دین السلام میں زندگی گزارو) ، تاکہ تمہیں فلاح و کامیابی نصیب ہو ۔

Leave a comment