سورۃ المائدہ رکوع نمبر 12

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم 

 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ  اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا  یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۸۷﴾

 اے لوگو جو ایمان لائے ہو(دین باطل چھوڑ کر دین حق الاسلام قبول کر چکے ہو)  جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو اور حدود (کتاب اللہ) سے تجاوز نہ کرو  ، اللہ رب العزت کو حدود وقیود سے تجاوز  کرنے والے  سخت ناپسند ہیں ۔ 

 

وَ کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾

 جو کچھ حلال و طیّب رزق اللہ رب العزت نے تمہیں دیا ہے اسے کھاؤ پیو اور اللہ رب العزت سے تقوی اختیار کرو  (نافرمانی سے بچتے ہوئے دین الاسلام میں زندگی گزارو) جس پر تم ایمان لائے ہو  ۔  

 

لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ  اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ  اِطۡعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمۡ  اَوۡ  کِسۡوَتُہُمۡ اَوۡ تَحۡرِیۡرُ  رَقَبَۃٍ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ  اَیۡمَانِکُمۡ  اِذَا حَلَفۡتُمۡ ؕ وَ احۡفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ  اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ  تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۸۹﴾

 تم لوگ جو لغو (بلا ارادہ) قسمیں کھا لیتے ہو ان پر اللہ گرفت نہیں کرتے  ،  مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر (پختہ) کھاتے ہو ان پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کریں گے ۔  ﴿ایسی قسم کا﴾ کفّارہ یہ ہے کہ دس ﴿١۰﴾ مسکینوں کو وہ اَوسط درجہ کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچّوں کو کھلاتے ہو  ،  یا انہیں کپڑے پہناؤ  ،  یا ایک غلام آزاد کرو  ،  اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے  ۔  یہ تمہاری قسموں کا کفّارہ ہے جبکہ تم قسم کھا کر توڑ دو  ۔چاہئے تو یہ کہ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو  ۔  اس طرح اللہ رب العزت اپنے احکام تمہارے لیے واضح کرتے ہیں شاید کہ تم شکر ادا (دین الاسلام قبول و اختیار )  کرو  ۔  

 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ  عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ  لَعَلَّکُمۡ  تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾

 اے لوگو جو ایمان لائے ہو  ،  یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے  ، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں  ،  ان سے پرہیز کرو  ،  امیّد ہے کہ تمہیں (معاشرے میں ) فلاح نصیب ہوگی  ۔

 

اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ  یُّوۡقِعَ  بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ  وَ الۡبَغۡضَآءَ  فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾

درحقیقت شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر (قرآن) سے اور صلوٰۃ سے روک دے  ۔ تو پھر کیا تم ان سے باز رہو گے؟ 

 

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ احۡذَرُوۡا ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی  رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ  الۡمُبِیۡنُ ﴿۹۲﴾

اطاعت (حکم کی تعمیل) کرو اللہ اور  رسول اللہ کی اور باز آجاؤ (شراب و جوءے سے) ،  لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو  یاد رکھو ! کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمّہ داری تھی. 

 

 

لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾              

 جو لوگ ایمان لے آئے (دین باطل چھوڑ کر دین حق قبول و اختیار کیا) اور اعمال صالح (قرآن و دین السلام کے نفاذ کی کوشش ومحنت) کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ(حرام) کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ  تقویٰ اختیار کریں (آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں) اور ایمان (دین السلام) پر ثابت قدم رہیں اور پھر تقویٰ اختیار کریں (جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں) اور ایمان پر قائم رہیں (جو فرمان الٰہی ہو اسے مانیں)  ۔  پھر تقویٰ اختیار کرتے ہوئے احسن عمل (قرآن و دین السلام کے نفاذ کی کوشش ومحنت) کرتے رہیں ۔ کیوں کہ اللہ رب العزت محسنین (عبادت، قرآن و دین السلام کے نفاذ کا احسن عمل کرنے والوں) کو محبوب رکھتے ہیں.

Leave a comment