سورہ المائدہ رکوع نمبر 10
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۷﴾

اے رسول مکرم ! جو (قرآن) آپ کے رب العزت کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دیں۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کی رسالت (پہنچانے) کا حق ادا نہیں کیا ۔ اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے بچانے والے ہیں ۔ یقین رکھو ! کہ اللہ کفار کو کامیابی کی راہ ہرگز نہیں دکھایا کرتے ۔

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ حَتّٰی تُقِیۡمُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۸﴾

اے نبی مکرم !۔ آپ اعلان فرما دیں کہ اے اہل کتاب ۔۔ تم ہرگز کسی اصل (دین ) پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی الکتاب ” قرآن “ کو قائم (نافذ ) نہیں کرتے ۔حقیقت یہ ہے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے ان (کفار) میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے مگر آپ انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کریں ۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِئُوۡنَ وَ النَّصٰرٰی مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۹﴾

در حقیقت جو لوگ ایمان لے آئے ۔۔اگرچہ پہلے یہودی , صابی یا عیسائی ہوں ، لیکن جو بھی اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لائے گا اور عمل صالح (قیام دین و خلافت کی کوشش و محنت ) کرے گا ۔ لہذا بلا شک وشبہ ان کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا ۔

لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ رُسُلًا ؕ کُلَّمَا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُہُمۡ ۙ فَرِیۡقًا کَذَّبُوۡا وَ فَرِیۡقًا یَّقۡتُلُوۡنَ ﴿٭۷۰﴾

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ، مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ان کی خواہشاتِ نفس کے خلاف (احکامات \ تعلیمات) لے کر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کسی کو قتل کر دیا ۔

وَ حَسِبُوۡۤا اَلَّا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ فَعَمُوۡا وَ صَمُّوۡا ثُمَّ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ثُمَّ عَمُوۡا وَ صَمُّوۡا کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۱﴾

اور وہ اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا ، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے ۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کیا تو ان میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے ۔ اللہ ان کی یہ سب حرکات دیکھتے رہے ہیں۔


لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۷۲﴾

در حقیقت کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابنِ مریم ہی ” اللہ “ ہے ۔ حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ “ اے بنی اسرائیل ! اللہ کی عبادت (دین الاسلام قبول و اختیار ) کرو جو میرے رب بھی ہیں اور تمہارے ”رب العزت بھی ” ۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا (اللہ کے دین کے علاوہ کوئی اور دین قبول و اختیار کیا ) اس پر اللہ نے جنّت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنّم ہے اور ایسے ظالموں (مشرکین ) کا کوئی مددگار نہیں ۔

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ ۘ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّاۤ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہُوۡا عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾

یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے ، حالانکہ ایک (اللہ) الہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اگر یہ لوگ اپنے اقوال سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے وہ درد ناک سزا پائیں گے ۔

اَفَلَا یَتُوۡبُوۡنَ اِلَی اللّٰہِ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۷۴﴾

پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور ان سے استغفار نہیں کریں( معافی نہ مانگیں) گے؟ جب کہ اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔

مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ وَ اُمُّہٗ صِدِّیۡقَۃٌ ؕ کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ انۡظُرۡ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۷۵﴾

مسیح ابنِ مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھے ، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ، اس کی ماں ایک صدیقہ( راستباز) عورت تھی ، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے آیات (احکامات ).واضح بیان کرتے ہیں ، پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھرے جاتے ہیں ۔


قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۷۶﴾

اِن سے کہو ، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت (غیر اسلام دین قبول) کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا ؟ حالانکہ سب کی سننے والے اور سب کچھ جاننے والے تو اللہ ہی ہیں۔

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوۡۤا اَہۡوَآءَ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا وَّ ضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿٪۷۷﴾

(اے نبی مکرم !۔) اے اہل کتاب ۔۔۔ اپنے دین میں ناحق غلو (مبالغہ) نہ کرو اور ان لوگوں کے تخیّلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور “ سَوَاء السّبیل” (سیدھے راستہ\ دین الاسلام کو قبول کرنے ) سے بھٹک گئے ۔

Leave a comment