سورۃ المائدہ رکوع نمبر 9

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا  تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ الۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ اتَّقُوا  اللّٰہَ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ  مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾

اے لوگو جو ایمان لے آئے ہو ( دین حق قبول کر چکے ہو ) ، تم سے پہلے کے اہل کتاب میں سے ان لوگوں کو ، اور کفار ( منکرین دین حق ) کو اپنا ولی (رفیق \ دوست)  نہ بناؤ ، جو تمہارے دین (الاسلام ) کا مذاق اڑاتے ہیں اور کھیل تماشہ سمجھتے ہیں ، اللہ رب العزت سے تقوی اختیار کرو ( نافرمانی سے بچتے ہوئے ، دین الاسلام میں زندگی گزارنے کی کوشش کرو) ، اگر تم مومن ہو۔

وَ اِذَا نَادَیۡتُمۡ  اِلَی الصَّلٰوۃِ  اتَّخَذُوۡہَا ہُزُوًا وَّ لَعِبًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾

جب آپ لوگ صلواۃ کے لئے منادی کرتے (آذان دیتے) ہو ، تو یہ لوگ اس کا بھی طنز و مزاح کرتے (مذاق اڑاتے اور کھیلتے) ہیں ، اس لئے کہ وہ عقل نہیں رکھتے ۔

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ  اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ  اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اَنَّ  اَکۡثَرَکُمۡ  فٰسِقُوۡنَ ﴿۵۹﴾

(اے نبی مکرم ) ان اہل کتاب سے پوچھیں ؟ تم لوگ کس بات کا ہم سے انتقام لینا چاہتے ہو ؟ اس بات کا کہ ہم اللہ رب العزت پر ایمان لائے ، ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا ( قرآن مجید)  اور جو کتابیں ہم سے پہلے اتاری گئیں ، جب کہ تم میں سے اکثر لوگ فاسق (اپنی کتاب   کے غدارو باغی) ہیں ۔

قُلۡ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیۡہِ وَ جَعَلَ مِنۡہُمُ الۡقِرَدَۃَ  وَ الۡخَنَازِیۡرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوۡتَ ؕ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ  اَضَلُّ  عَنۡ  سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿۶۰﴾

(اے نبی مکرم ) آپ ان سے فرما دیں ، کہ کیا میں آپ لوگوں کو بتاؤں ، کن لوگوں کا ٹھکانہ \ سزا ( انجام فاسقوں سے بھی ) بدتر ہو گا ۔ ؟ وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب الہی ٹوٹا (الکتاب \ دین الاسلام کو چھوڑنے کی وجہ سے) اور ان میں سے لوگ بندر اور سور صفت جانور

اور طاغوت کے عبد (غلام ) بنا دئے گئے۔ایسے لوگ کا مقدر ہی بد ترین انجام ہے کیوں کہ وہ سوآء السبیل (الکتاب\ دین الاسلام) سے بہت دور جا پڑے ۔

وَ اِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ قَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ  وَ ہُمۡ  قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ  اَعۡلَمُ  بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۶۱﴾

 جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے  ،  حالانکہ کفر لیے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لیے ہوئے واپس نکل گئے اور اللہ کو علم ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں  ۔

وَ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۲﴾

تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دَوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں  ۔  بہت برے اعمال (حرکات) ہیں جو یہ کر رہے ہیں  ۔ 

لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا  کَانُوۡا  یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾

کیوں نہیں روکتے ان کے علماء اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے؟ یقیناً بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں  ۔ 

وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ یَدُ اللّٰہِ مَغۡلُوۡلَۃٌ ؕ غُلَّتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ لُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا ۘ بَلۡ یَدٰہُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ یُنۡفِقُ  کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ  اُنۡزِلَ  اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ؕ وَ اَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ  اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کُلَّمَاۤ  اَوۡقَدُوۡا  نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَہَا اللّٰہُ ۙ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا ؕ وَ اللّٰہُ  لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۴﴾

 یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔جب کہ  باندھے گئے ان کے ہاتھ   اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں  اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں  ،  جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے  ۔  

حقیقت یہ ہے کہ جو قرآن (الکتاب) آپ کے  رب العزت (حاکم اعلی) کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی بغاوت و کفر(سرکشی و باطل پرستی) میں اضافہ کا موجب بن گیا ہے  اور (اس کی پاداش میں) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت و بغض( دشمنی) ڈال دی ہے  ۔  جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کر دیتے ہیں ۔  اور یہ زمین میں فساد پَھیلانے کی سعی کرتے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتے۔

وَ لَوۡ  اَنَّ  اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَکَفَّرۡنَا عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاَدۡخَلۡنٰہُمۡ  جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۶۵﴾

 اگر(اس سرکشی کے بجائے) یہ اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے ( یعنی نافرمانی سے بچتے ہوئے دین الاسلام میں زندگی گزارتے) تو ہم ان کی برائیاں ان سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے ۔

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ  اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ  مِّنۡ رَّبِّہِمۡ لَاَکَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ ؕ مِنۡہُمۡ اُمَّۃٌ  مُّقۡتَصِدَۃٌ ؕ وَ کَثِیۡرٌ  مِّنۡہُمۡ سَآءَ مَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۶﴾٪            

 کاش انہوں نے تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں  ۔  ایسا کرتے تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا  ۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست رَو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے  ۔

Leave a comment