اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
سورۃ البقرہ۔ رکوع نمبر۔ 14 13
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾
اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو (دین باطل چھوڑ کر دین حق کو قبول کر چکے ہو) راعنا نہ کہا کرو, بلکہ انظرنا کہا کرو اور (قرآن کو ) توجہ سے سنا کرو یاد رکھو ! منکرین (قرآن\ دین حق) کے لیے دردناک عذاب تیار ہے.
مَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ لَا الۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یُّنَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۱۰۵﴾
کفار (منکرین قرآن۔ دین حق) خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ آپ کو رب العزت(حاکم اعلی ) کی طرف سے کوئی خیر( بھلائی) نصیب ہو .مگر اللہ رب العزت جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت سے چن لیتے ہیں وہ بہت ہی زیادہ فضل فرمانے والے ہیں.
مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۰۶﴾
جب ہم اپنی کسی آیت ( حکم) کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس کی جگہ بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی, کیا آپ کو علم نہیں ہے کہ اللہ رب العزت ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں
اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾
کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ آسمان و زمین اللہ رب العزت کی ملکیت (اور حاکمیت) میں ہیں .اور ان کے بغیر نہ کوئی تمہارا سرپرست ہے اور نہ ہی کوئی مددگار .
اَمۡ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡئَلُوۡا رَسُوۡلَکُمۡ کَمَا سُئِلَ مُوۡسٰی مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَبَدَّلِ الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۱۰۸﴾
کیا تم لوگ بھی چاہتے ہو کے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ایسے سوال کرو جیسے پہلے موسی (علیہ السلام) سے کیے گئے تھے. یاد رکھو ! جس نے ایمان کی روش کو کفر میں بدل لیا وہ یقینا سیدھے راستے سے بھٹک گیا.
وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِکُمۡ کُفَّارًا ۚ ۖ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِہِمۡ مِّنۡۢف۔ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡحَقُّ ۚ فَاعۡفُوۡا وَ اصۡفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۰۹﴾ ؓ
بہت سے اہل کتاب محض حسد کی بنیاد پر یہ چاہتے ہیں کسی طرح تمہیں ایمان (قرآن\ دین حق) سے پھیر کر کفر(دین باطل) کی طرف لے جائیں، جبکہ حق(دین حق \ الاسلام) ان پر واضح ہو چکا ہے. لیکن آپ نے عفو و درگزر سے کام لینا ہے، یہاں تک کہ اللہ رب العزت کا فیصلہ آجائے. یقینا ہر چیز اللہ رب العزت کے قبضہ قدرت میں ہے .
وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱۰﴾
اور صلوۃ کو قائم (منظم صف بندی )کرو نظام زکوۃ کو قائم کرو اور جو خیر کے کام اپنے لیے آگے بھیجو گے ، تم آخرت میں اللہ رب العزت کے ہاں موجود پاؤ گے . بلا شک و شبہ جو تم عمل( کام ) کر رہے ہو اللہ رب العزت دیکھ رہے ہیں .
وَ قَالُوۡا لَنۡ یَّدۡخُلَ الۡجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ کَانَ ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی ؕ تِلۡکَ اَمَانِیُّہُمۡ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾
وہ (یہودی و عیسائی) کہتے ہیں جنت میں یہود و نصاریٰ کے سوا کوئی نہیں جائے گا یہ ان کی خوش فہمی ہے.آپ انہیں کہیں اپنی (کتاب کی ) کوئی دلیل پیش کرو ،اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو؟
بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٪
بلکہ حقیقت یہ ہے جس نے اللہ کے لئے دین , الاسلام قبول و اختیار کر لیا (حکم کے مطابق سر تسلیم خم کر دیا) اور ہو وہ محسن (یعنی عبادت کا احسن عمل کرنے والا) تو اس کے لئے اجر (انعام و اکرام) ہے اپنے رب العزت (حاکم اعلی )کے پاس اور اس کے لیے (دنیا و آخرت میں ) کوئی خوف اور رنج و غم نہیں ہو گا.
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ ۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الۡیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍ ۙ وَّ ہُمۡ یَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِہِمۡ ۚ فَاللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۱3}
( حالت تو یہ ہے ) یہودی کہتے ہیں عیسائی اپنے اصل دین پر نہیں ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی اپنے اصل دین پر نہیں ہیں .جبکہ دونوں گروہ ہی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔۔ اسی طرح وہ لوگ جو کتاب کا علم نہیں رکھتے وہ بھی کہتے ہیں۔( یاد رکھو ) لوگوں کے اس اختلاف کا فیصلہ اللہ رب العزت ہی قیامت کے روز فرمائیں گے .
وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنۡ یُّذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ وَ سَعٰی فِیۡ خَرَابِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ مَا کَانَ لَہُمۡد اَنۡ یَّدۡخُلُوۡہَاۤ اِلَّا خَآئِفِیۡنَ ۬ ؕ لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّ لَہُمۡ فِی الآخرہ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾
اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو لوگوں کو مساجد میں اللہ کا ذکر کرنے سے روکے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے .( یاد رکھو )ایک دن یہ لوگ (اہل مکہ) بھی مسجد (حرام )میں داخل ہوتے ہوئے ڈریں گے ان لوگوں کے لئے دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں بھی عذاب عظیم ہوگا.
وَ لِلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ٭ فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡہُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾
مشرق و مغرب سب اللہ رب العزت کے ہیں جس طرف بھی تم منہ کرو گے ان کو اپنی طرف متوجہ پاؤ گے اللہ رب العزت بہت وسیع الظرف اور سب علم رکھتے ہیں ۔
وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ۙ سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾
یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ صاحب اولاد ہے(استغفراللہ)آپف کی ذات گرامی تو بالکل پاک اور مبرا ہیں(اس بہتان سے)بلکہ آسمان و زمین ان کے لیے(پوری کائنات کے مالک و حاکم) ہیں اور تمام مخلوق ان کی مطیع و فرمانبردار ہے .
بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۱۱۷﴾
وہی اللہ موجد (خالق) ہیں آسمان و زمین (پوری کائنات) کے اور وہ جب کسی کام کو کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو حکم کرتے ہیں ہوجا (کن) اور وہ کام (تخلیق) ہو جاتا ہے
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ لَوۡ لَا یُکَلِّمُنَا اللّٰہُ اَوۡ تَاۡتِیۡنَاۤ اٰیَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِہِمۡ ؕ تَشَابَہَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾
جو لوگ (کتاب کا) علم نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں اللہ رب العزت ہم سے کلام کیوں نہیں کرتے؟ یا اپنی آیات (احکامات \ نشانیاں) ہمیں کیوں نہیں دیتے .ایسی ہی باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کرتے رہے ہیں (جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ ) ان کے دل (خیالات) ایک جیسے ہیں. جب کہ یقین (ایمان) لانے والوں کے لیے ہم اپنی آیات (احکامات) واضح بیان کر چکے ہیں.
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ۙ وَّ لَا تُسۡئَلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۹﴾
درحقیقت ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حق (دین حق, الاسلام) دے کر بھیجا ہے تاکہ بشارت دیں (ایمان لانے والوں کو جنت کی)اور ڈرائیں ( منکرین کو جہنم کی سزا سے) . جب کہ اصحاب جہنم ( منکرین دین حق ) کے بارے میں آپ سےسوال نہ ہوگا۔
وَ لَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۲۰﴾ؔ
یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کی ملت ( قوم کے دین باطل) کی پیروی نہ کرو گے .آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان سے فرما دیں ہدایت و رہنمائی وہ ہے جو اللہ رب العزت کی طرف سے (میرے پاس) آئی ہے. اس علم (کتاب \قرآن مجید) کے آ جانے کے بعد اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو پھر کوئی ولی (سرپرست ) و مددگارتمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکے گا.
اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۲۱﴾٪
جن لوگوں کو الکتاب دی گئی تو انہوں نے اس کی تلاوت کرنے کا حق ادا کیا ہے(یعنی اس پر 1..ایمان لائے،
2..سیکھا سمجھا اور غوروفکر کیا
3..عمل کرنے کی کوشش کی، 4…دوسروں تک پہنچایا .
5..اور معاشرے میں نافذ و قائم کرنے کی کوشش و محنت کی ۔
دراصل وہی لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے تلاوت کے حق ادا (ایمان کے تقاضے پورے) کرنے سے انکار کیا وہی لوگ ناکام و نا مراد ہیں (دنیا و آخرت میں) .
