السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
سبق نمبر 1463 ,بروز ہفتہ ۔
فروری 28 ، عیسوی 2026
رمضان 10 ، ہجری 1447
پھاگن 17 , نانک ، 555, بکرمی 2082
سورہ القارعہ۔101.آیات، 6-11

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
میں پناہ مانگتا ہوں \ یا اللہ بچا لیں مردود شیطان (جن و انس) سے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
یا اللہ آپ رحمان (نے کمال مہربانی سے فضیلت و انعامات دئے ) ہیں ۔آپ کے پاک ناموں کا واسطہ رحم بھی فرما (دین رحمت سے نواز ) دیں ۔

(نوٹ۔۔۔ اوپر والی آیات سے ملا کر پڑہیں ۔شکریہ )۔

فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۶﴾
تو (قیامت کے دن) پھر جس شخص کے (دنیا کی زندگی میں کئے گئے اعمال کے ) پلڑے بھاری ہو گئے۔

فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ؕ﴿۷﴾
تو وہ اپنی پسندیدہ عیش و آرام کی زندگی میں ہو گا۔

وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۸﴾
اور جس شخص کے (دنیاوی اعمال کے ) پلڑے ہلکے ہو گئے۔

فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ ؕ﴿۹﴾
تو اس کی ماں (ٹھکانہ ) ہاویہ (جہنم) ہوگا ۔

وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا ہِیَہۡ ﴿ؕ۱۰﴾
اور (اے انسان ) تمہیں کیا ادراک (شعور و سمجھ ) کہ ھاویہ کیا ہے؟

نَارٌ حَامِیَۃٌ ﴿۱۱﴾
وہ دہکتی ہوئی (سخت گرم) آگ ہے۔

(نوٹ۔۔۔ اے برادران قوم !۔ درج بالا آیات مبارکہ کی روشنی ہم خود ہی اپنا جائزہ ابھی لیں کہ کیا ہمارے کئے گئے اعمال کے پلڑے ۔۔۔بھاری ہوں گا ۔۔یعنی دین الاسلام \قرآن و سنت کے مطابق ہیں ۔۔
یا ۔۔ ہلکے ہوں گے ۔۔ دین الاسلام \ قرآن و سنت کے خلاف ہیں ۔العیاذ باللہ )

Leave a comment