سورۃ الانعام رکوع نمبر 1
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ ۬ ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱﴾
تمام تعریف تو اللہ رب العزت کی ذات گرامی قدر کے لیے ہے جنہوں نے تخلیق کئے ہی اسمان و زمین اور بنائے ہیں ظلمات (تاریکیاں و اندھیرے \ دینِ باطل) اور نور (روشنی\ دین حق) ۔ (اللہ رب العزت کو خالق و مالک تسلیم کرنے کے بعد) پھر بھی وہ لوگ اپنے رب العزت (حاکم اعلی) کو تسلیم کرنے سے انکار (کفر) کرتے ہوئے بغاوت کرتے (حدود سے بڑھ جاتے) ہیں۔
ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۲﴾
وہی ذات گرامی قدر ہیں جنہوں نے تمہیں مٹی سے تخلیق کیا پھر (موت کا) ایک وقت مقرر کیا۔۔ پھر (قیامت کے دن کا) ایک اور وقت اللہ کے پاس مقرر ہے پھر بھی تم لوگ (اللہ کے اختیارات میں ) شک کرتے ہو۔
وَ ہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَعۡلَمُ سِرَّکُمۡ وَ جَہۡرَکُمۡ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۳﴾
اور وہی اللہ رب العزت اسمانوں اور زمین کے اکیلے ہی اللہ (الہ\ رب\ حاکم\ معبود) ہیں۔ جو تمہارے کھلے (ظاہر) چھپے (باطن کے) سب حال کا علم رکھتے ہیں اور وہ جو کچھ تم کام (کرتوت) کرتے ہو اس کا بھی علم رکھتے ہیں۔
وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۴﴾
جب بھی کبھی ان کے پاس ان کے رب العزت (حاکم اعلی) کی آیات (احکامات) میں سے احکامات ائے تو انہوں نے منہ پھیر لیا (ماننے سے انکار کر دیا)۔
فَقَدۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ؕ فَسَوۡفَ یَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۵﴾
جب بھی حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ان کے پاس حق (دین حق \ قرآن) آیا انہوں نے اسے جھٹلایا ۔۔۔لہذا جلد ہی وہ خبر ان کے سامنے آ جائے گی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّکُمۡ وَ اَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَیۡہِمۡ مِّدۡرَارًا ۪ وَّ جَعَلۡنَا الۡاَنۡہٰرَ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ وَ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۶﴾
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کو ہم نے زمین میں اقتدار دیا تھا جیسا کہ تمہیں نہیں دیا اور آسمان سے موسلا دھار بارشیں برسائیں اور پانی کی نہریں بہا دیں پھر اخر کار ہم نے ان کے جرائم (گناہوں) کی وجہ سے انہیں ہلاک( تباہ) کر دیا اور ان کی جگہ دوسری اقوام کو اٹھایا(عروج دیا)۔
وَ لَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ کِتٰبًا فِیۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡہُ بِاَیۡدِیۡہِمۡ لَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر ہم اپ کی طرف کاغذ پر لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے اور یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے اسے چھو کر دیکھ بھی لیتے تب بھی جن لوگوں نے کفر (انکار قران\ دین حق) کیا ہے وہ یہی کہتے یہ تو صریح جادو ہے۔
وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ مَلَکٌ ؕ وَ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸}
اور (کفار ) کہتے ہیں کہ اس (نبی صلی اللہ علیہ ہ وسلم) کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک فیصلہ ہو چکا ہوتا (قیامت کا) پھر انہیں کوئی مہلت (زندگی ) نہ دی جاتی۔
وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ ﴿۹﴾
نیز اگر ہم کسی فرشتے کو مقرر کرتے (بھیجتے)تو اسے آدمی (مرد\ انسان)کی شکل میں بھیجتے,تو جو شبہ و اعتراض اب (یہ کفار ) کرتے ہیں وہ اعتراض برقرار رہتا۔
وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۱۰﴾٪
(اے نبی مکرم) یقینا آپ سے پہلے بھی بہت رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے مگر ان مذاق اڑانے والوں پر اخر کار وہی (سزا کی) حقیقت مسلط ہو کر ہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

1 Comment
alburhanq.com
بلا شبہ
ماشاءاللہ جزاک اللہ خیرا